Friday, June 1, 2018

Hadis no. 124

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرٌو، قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، قَالَ قُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ إِنَّ نَوْفًا الْبِكَالِيَّ يَزْعُمُ أَنَّ مُوسَى لَيْسَ بِمُوسَى بَنِي إِسْرَائِيلَ، إِنَّمَا هُوَ مُوسَى آخَرُ‏.‏ فَقَالَ كَذَبَ عَدُوُّ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ قَامَ مُوسَى النَّبِيُّ خَطِيبًا فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَسُئِلَ أَىُّ النَّاسِ أَعْلَمُ فَقَالَ أَنَا أَعْلَمُ‏.‏ فَعَتَبَ اللَّهُ عَلَيْهِ، إِذْ لَمْ يَرُدَّ الْعِلْمَ إِلَيْهِ، فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ أَنَّ عَبْدًا مِنْ عِبَادِي بِمَجْمَعِ الْبَحْرَيْنِ هُوَ أَعْلَمُ مِنْكَ‏.‏ قَالَ يَا رَبِّ وَكَيْفَ بِهِ فَقِيلَ لَهُ احْمِلْ حُوتًا فِي مِكْتَلٍ فَإِذَا فَقَدْتَهُ فَهْوَ ثَمَّ، فَانْطَلَقَ وَانْطَلَقَ بِفَتَاهُ يُوشَعَ بْنِ نُونٍ، وَحَمَلاَ حُوتًا فِي مِكْتَلٍ، حَتَّى كَانَا عِنْدَ الصَّخْرَةِ وَضَعَا رُءُوسَهُمَا وَنَامَا فَانْسَلَّ الْحُوتُ مِنَ الْمِكْتَلِ فَاتَّخَذَ سَبِيلَهُ فِي الْبَحْرِ سَرَبًا، وَكَانَ لِمُوسَى وَفَتَاهُ عَجَبًا، فَانْطَلَقَا بَقِيَّةَ لَيْلَتِهِمَا وَيَوْمِهِمَا فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ مُوسَى لِفَتَاهُ آتِنَا غَدَاءَنَا، لَقَدْ لَقِينَا مِنْ سَفَرِنَا هَذَا نَصَبًا، وَلَمْ يَجِدْ مُوسَى مَسًّا مِنَ النَّصَبِ حَتَّى جَاوَزَ الْمَكَانَ الَّذِي أُمِرَ بِهِ‏.‏ فَقَالَ لَهُ فَتَاهُ أَرَأَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ، قَالَ مُوسَى ذَلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِي، فَارْتَدَّا عَلَى آثَارِهِمَا قَصَصًا، فَلَمَّا انْتَهَيَا إِلَى الصَّخْرَةِ إِذَا رَجُلٌ مُسَجًّى بِثَوْبٍ ـ أَوْ قَالَ تَسَجَّى بِثَوْبِهِ ـ فَسَلَّمَ مُوسَى‏.‏ فَقَالَ الْخَضِرُ وَأَنَّى بِأَرْضِكَ السَّلاَمُ فَقَالَ أَنَا مُوسَى‏.‏ فَقَالَ مُوسَى بَنِي إِسْرَائِيلَ قَالَ نَعَمْ‏.‏ قَالَ هَلْ أَتَّبِعُكَ عَلَى أَنْ تُعَلِّمَنِي مِمَّا عُلِّمْتَ رَشَدًا قَالَ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا، يَا مُوسَى إِنِّي عَلَى عِلْمٍ مِنْ عِلْمِ اللَّهِ عَلَّمَنِيهِ لاَ تَعْلَمُهُ أَنْتَ، وَأَنْتَ عَلَى عِلْمٍ عَلَّمَكَهُ لاَ أَعْلَمُهُ‏.‏ قَالَ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ صَابِرًا، وَلاَ أَعْصِي لَكَ أَمْرًا، فَانْطَلَقَا يَمْشِيَانِ عَلَى سَاحِلِ الْبَحْرِ لَيْسَ لَهُمَا سَفِينَةٌ، فَمَرَّتْ بِهِمَا سَفِينَةٌ، فَكَلَّمُوهُمْ أَنْ يَحْمِلُوهُمَا، فَعُرِفَ الْخَضِرُ، فَحَمَلُوهُمَا بِغَيْرِ نَوْلٍ، فَجَاءَ عُصْفُورٌ فَوَقَعَ عَلَى حَرْفِ السَّفِينَةِ، فَنَقَرَ نَقْرَةً أَوْ نَقْرَتَيْنِ فِي الْبَحْرِ‏.‏ فَقَالَ الْخَضِرُ يَا مُوسَى، مَا نَقَصَ عِلْمِي وَعِلْمُكَ مِنْ عِلْمِ اللَّهِ إِلاَّ كَنَقْرَةِ هَذَا الْعُصْفُورِ فِي الْبَحْرِ‏.‏ فَعَمَدَ الْخَضِرُ إِلَى لَوْحٍ مِنْ أَلْوَاحِ السَّفِينَةِ فَنَزَعَهُ‏.‏ فَقَالَ مُوسَى قَوْمٌ حَمَلُونَا بِغَيْرِ نَوْلٍ، عَمَدْتَ إِلَى سَفِينَتِهِمْ فَخَرَقْتَهَا لِتُغْرِقَ أَهْلَهَا قَالَ أَلَمْ أَقُلْ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا قَالَ لاَ تُؤَاخِذْنِي بِمَا نَسِيتُ‏.‏ فَكَانَتِ الأُولَى مِنْ مُوسَى نِسْيَانًا‏.‏ فَانْطَلَقَا فَإِذَا غُلاَمٌ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ، فَأَخَذَ الْخَضِرُ بِرَأْسِهِ مِنْ أَعْلاَهُ فَاقْتَلَعَ رَأْسَهُ بِيَدِهِ‏.‏ فَقَالَ مُوسَى أَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِيَّةً بِغَيْرِ نَفْسٍ قَالَ أَلَمْ أَقُلْ لَكَ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا ـ قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ وَهَذَا أَوْكَدُ ـ فَانْطَلَقَا حَتَّى إِذَا أَتَيَا أَهْلَ قَرْيَةٍ اسْتَطْعَمَا أَهْلَهَا، فَأَبَوْا أَنْ يُضَيِّفُوهُمَا، فَوَجَدَا فِيهَا جِدَارًا يُرِيدُ أَنْ يَنْقَضَّ فَأَقَامَهُ‏.‏ قَالَ الْخَضِرُ بِيَدِهِ فَأَقَامَهُ‏.‏ فَقَالَ لَهُ مُوسَى لَوْ شِئْتَ لاَتَّخَذْتَ عَلَيْهِ أَجْرًا‏.‏ قَالَ هَذَا فِرَاقُ بَيْنِي وَبَيْنِكَ ‏"‏‏.‏ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَرْحَمُ اللَّهُ مُوسَى، لَوَدِدْنَا لَوْ صَبَرَ حَتَّى يُقَصَّ عَلَيْنَا مِنْ أَمْرِهِمَا Narrated By Ubai bin Ka'b : The Prophet said, "Once the Prophet Moses stood up and addressed Bani Israel. He was asked, "Who is the most learned man amongst the people. He said, "I am the most learned." Allah admonished Moses as he did not attribute absolute knowledge to Him (Allah). So Allah inspired to him "At the junction of the two seas there is a slave amongst my slaves who is more learned thanyou." Moses said, "O my Lord! How can I meet him?" Allah said: Take a fish in a large basket (and proceed) and you will find him at the place where you will lose the fish. So Moses set out along with his (servant) boy, Yusha' bin Nuin and carried a fish in a large basket till they reached a rock, where they laid their heads (i.e. lay down) and slept. The fish came out of the basket and it took its way into the sea as in a tunnel. So it was an amazing thing for both Moses and his (servant) boy. They proceeded for the rest of that night and the following day. When the day broke, Moses said to his (servant) boy: "Bring us our early meal. No doubt, we have suffered much fatigue in this journey." Moses did not get tired till he passed the place about which he was told. There the (servant) boy told Moses, "Do you remember when we betook ourselves to the rock, I indeed forgot the fish." Moses remarked, "That is what we have been seeking. So they went back retracing their foot-steps, till they reached the rock. There they saw a man covered with a garment (or covering himself with his own garment). Moses greeted him. Al-Khadir replied saying, "How do people greet each other in your land?" Moses said, "I am Moses." He asked, "The Moses of Bani Israel?" Moses replied in the affirmative and added, "May I follow you so that you teach me of that knowledge which you have been taught." Al-Khadir replied, "Verily! You will not be able to remain patient with me, O Moses! I have some of the knowledge of Allah which He has taught me and which you do not know, while you have some knowledge which Allah has taught you which I do not know." Moses said, "Allah willing, you will find me patient and I will not disobey you in aught. So both of them set out walking along the sea-shore, as they did not have a boat.In the meantime a boat passed by them and they requested the crew of the boat to take them on board. The crew recognized Al-Khadir and took them on board without fare. Then a sparrow came and stood on the edge of the boat and dipped its beak once or twice in the sea. Al-Khadir said: "O Moses! My knowledge and your knowledge have not decreased Allah's knowledge except as much as this sparrow has decreased the water of the sea with its beak." Al-Khadir went to one of the planks of the boat and plucked it out. Moses said, "These people gave us a free lift but you have broken their boat and scuttled it so as to drown its people." Al-Khadir replied, "Didn't I tell you that you will not be able to remain patient with me." Moses said, "Call me not to account for what I forgot." The first (excuse) of Moses was that he had forgotten. Then they proceeded further and found a boy playing with other boys. Al-Khadir took hold of the boy's head from the top and plucked it out with his hands (i.e. killed him). Moses said, "Have you killed an innocent soul who has killed none." Al-Kha,dir replied, "Did I not tell you that you cannot remain patient with me?" Then they both proceeded till when they came to the people of a town, they asked them for food, but they refused to entertain them. Then they found there a wall on the point of collapsing. Al-Khadir repaired it with his own hands. Moses said, "If you had wished, surely you could have taken wages for it." Al-Khadir replied, "This is the parting between you and me." The Prophet added, "May Allah be Merciful to Moses! Would that he could have been more patient to learn more about his story with Al-Khadir." حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کی کہ نوف بکالی کہتا ہے، کہ وہ موسی علیہ السلام (جو خضر علیہ السلام کے پاس گئے تھے) بنی اسرائیل کے موسیٰ نہیں تھے بلکہ دوسرے موسیٰ(بن میشا) تھے، آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اللہ کا دشمن جھوٹ بول رہا ہے۔ہمیں ابی بن کعب نے بتایا کہ نبیﷺ نے فرمایا: موسی علیہ السلام بنی اسرائیل میں خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ ان سے پوچھا گیا (اس وقت) سب سے بڑا عالم کون ہے؟ موسی علیہ السلام نے فرمایا میں بڑا عالم ہوں اللہ تعالی کو یہ بات پسند نہ آئی لہذا اللہ تعالی نے وحی کی کہ جہاں دو دریا ملتے ہیں وہاں میرا ایک بندہ ہے جس کے پاس آپ سے زیادہ علم ہے، موسی علیہ السلام نے عرض کی یا اللہ میں اس تک کیسے پہنچ پاؤں گا؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ایک مچھلی تھیلے میں رکھ کر سفر شروع کرو جہاں وہ سمندر میں چلی جائے وہاں اس سے ملاقات ہوگی، لہذا موسی علیہ السلام اپنے ساتھی یوشع بن نون کی معیت میں مچھلی ساتھ لیے چل پڑے، جب دونوں ایک چٹان کے پاس پہنچے تو (تھکاوٹ کی وجہ سے) سوگئے اتنے میں مچھلی تھیلے سے نکل کر سمندر میں چلی گئی، وہ دونوں بیدار ہوئے اور سفر شروع کردیا جب صبح ہوئی تو موسی علیہ السلام نے یوشع سے کہا تھکاوٹ ہو گئی ہے ناشتہ لاؤ، انہوں نے بتایا کہ وہ مچھلی تو فلاں چٹان کے پاس سمندر میں چلی گئی تھی مجھے بتانا یاد ہی نہیں رہا ، موسی علیہ السلام نے فرمایا: ہمیں اسی جگہ کی تلاش تو تھی آخر وہ اپنے قدموں کے نشانات دیکھتے دیکھتے اسی جگہ جا پہنچے، کیا دیکھتے ہیں کہ ایک شخص چادر اوڑھے سو رہا ہے، موسی علیہ السلام نے سلام کہا تو خضر جاگ اٹھے اور (بے ساختہ )بولے یہاں سلام کہاں سے آ گیا؟ موسی علیہ السلام نے کہا میں موسی ہوں ، خضر علیہ السلام نے پوچھا کیا بنی اسرائیل کے موسیٰ؟ انہوں نے کہا: ہاں، پھر کہنے لگے میں آپ سے وہ علم کی باتیں سیکھنے آیا ہوں جو اللہ نے آپ کو سکھائی ہیں؟ خضر علیہ السلام نے کہا : آپ صبر نہیں کر سکیں گے، حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک علم مجھے دیا ہے جو آپ کے پاس نہیں اور ایک علم آپ کو دیا ہے جو میرے پاس نہیں، موسی علیہ السلام نے عرض کی اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صبر کرنے والا پائیں گے، اور میں کسی کام میں آپ کی نافرمانی نہیں کروں گا، آخر دونوں سمندر کے کنارے کنارے روانہ ہوئے ان کے پاس کشتی نہ تھی (کہ سمندر پار کر سکیں) اتنے میں ایک کشتی ادھر سے گزری جنہوں نے خضر علیہ السلام کو پہچان لیا اور بغیر کرایہ ان دونوں کو سوار کرلیا، دورانِ سفر ایک چڑیا کشتی کے کنارے آ کر بیٹھی اور ایک یا دو چونچ پانی پیا اور اُڑ گئی یہ دیکھ کر خضر علیہ السلام نے موسی علیہ السلام سے فرمایا: اے موسیٰ ! میرا اور آپ کا علم اللہ کے علم کے مقابلے میں اتنا ہی ہے جتنا اس چڑیا نے سمندر سے پانی لیا ہے، اتنے میں خضر علیہ السلام نے کشتی کا ایک پھٹا توڑ دیا جس پر موسی علیہ السلام نے کہا انہوں نے ہمیں بغیر کرایہ کے بٹھایا اور آپ نے ان کی کشتی کو نقصان پہنچا کر لوگوں کو ڈبونا چاہا تو خضر علیہ السلام نے کہا میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکیں گے، موسی علیہ السلام نے عرض کی یہ بھول کی وجہ سے ہوا ہے آپ اس پر میری گرفت نہ کریں، آپ ﷺ نے فرمایا یہ پہلا اعتراض موسی علیہ السلام سے بھول ہی کی وجہ سے تھا، پھر وہ آگے چل پڑے وہاں کچھ بچے کھیل رہے تھے جن میں سےایک بچے کو خضر علیہ السلام نے پکڑا اور اس کا سر تن سے جدا کردیا موسی علیہ السلام نے کہا: آپ نے نا حق ایک معصوم کی جان لے لی، خضر علیہ السلام نے کہا میں نے آپ سے کہا نہیں تھا کہ آپ میرے ساتھ صبرنہیں کر سکیں گے، ابن عیینہ کہتے ہیں یہ پہلی بات سے زیادہ سخت ہے، خیر پھر دونوں چلتے چلتے ایک گاؤں میں جا پہنچے اہلِ علاقہ سے کھانا مانگا تو انہوں نے دینے سے انکار کردیا اتنے میں انہوں نے ایک دیوار دیکھی جو گرنے والی تھی تو خضر علیہ السلام نے ایک اشارے سےا سے ٹھیک کردیا، موسی علیہ السلام نے کہا اگر آپ چاہتے تو اس کی مزدوری ان سے لے سکتے تھے، خضر نے کہا: بس اب ہم دونوں جدا ہوتے ہیں( آگئے نہیں چل سکتے) نبیﷺنے فرمایا: اللہ تعالیٰ موسی علیہ السلام پر رحم فرمائے کاش! وہ صبر کرتے تو مزید باتوں کا پتہ چلتا، (محمد بن یوسف ) نے کہا کہ ہم سے اس حدیث کو علی بن حشرم نے بیان کیا انہوں نے کہا: ہمیں سفیان ثوری نے خبر دی اسی طرح طویل حدیث کی۔

No comments:

Post a Comment