Friday, June 1, 2018
Hadis no. 81
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَثَلُ مَا بَعَثَنِي اللَّهُ بِهِ مِنَ الْهُدَى وَالْعِلْمِ كَمَثَلِ الْغَيْثِ الْكَثِيرِ أَصَابَ أَرْضًا، فَكَانَ مِنْهَا نَقِيَّةٌ قَبِلَتِ الْمَاءَ، فَأَنْبَتَتِ الْكَلأَ وَالْعُشْبَ الْكَثِيرَ، وَكَانَتْ مِنْهَا أَجَادِبُ أَمْسَكَتِ الْمَاءَ، فَنَفَعَ اللَّهُ بِهَا النَّاسَ، فَشَرِبُوا وَسَقَوْا وَزَرَعُوا، وَأَصَابَتْ مِنْهَا طَائِفَةً أُخْرَى، إِنَّمَا هِيَ قِيعَانٌ لاَ تُمْسِكُ مَاءً، وَلاَ تُنْبِتُ كَلأً، فَذَلِكَ مَثَلُ مَنْ فَقِهَ فِي دِينِ اللَّهِ وَنَفَعَهُ مَا بَعَثَنِي اللَّهُ بِهِ، فَعَلِمَ وَعَلَّمَ، وَمَثَلُ مَنْ لَمْ يَرْفَعْ بِذَلِكَ رَأْسًا، وَلَمْ يَقْبَلْ هُدَى اللَّهِ الَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ ". قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ قَالَ إِسْحَاقُ وَكَانَ مِنْهَا طَائِفَةٌ قَيَّلَتِ الْمَاءَ. قَاعٌ يَعْلُوهُ الْمَاءُ، وَالصَّفْصَفُ الْمُسْتَوِي مِنَ الأَرْضِ
Narrated By Abu Musa : The Prophet said, "The example of guidance and knowledge with which Allah has sent me is like abundant rain falling on the earth, some of which was fertile soil that absorbed rain water and brought forth vegetation and grass in abundance. (And) another portion of it was hard and held the rain water and Allah benefited the people with it and they utilized it for drinking, making their animals drink from it and for irrigation of the land for cultivation. (And) a portion of it was barren which could neither hold the water nor bring forth vegetation (then that land gave no benefits). The first is the example of the person who comprehends Allah's religion and gets benefit (from the knowledge) which Allah has revealed through me (the Prophets and learns and then teaches others. The last example is that of a person who does not care for it and does not take Allah's guidance revealed through me (He is like that barren land.)"
حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے جو علم اور ہدایت مجھے دے کربھیجا ہے اس کی مثال اس زور دار بارش کی سی ہے جو زمین پر برستی ہے ، زمین کے کچھ حصے ایسے ہوتے ہیں جو پانی جذب کر لیتے ہیں اور پھر گھاس اور سبزہ اگتا ہے، اور بعض حصے سخت ہوتے ہیں جن میں پانی ٹھر جاتا ہے، اللہ اس سے لوگوں کو فائدہ پہنچاتا ہے ، لوگ اس سے سیراب ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی پلاتے ہیں، اور زمیں کے کچھ حصے چٹیل ہوتے ہیں جن میں پانی ٹھہرتا ہے نہ جذب ہوتا ہے ، یہ مثال اس شخص کی ہے جس نے دین میں سمجھ پیدا کی اور میری تعلیمات سے فائدہ اٹھایا ، خود بھی سیکھا اور دوسروں کو بھی سکھایا، اور اس شخص کی مثال بھی ہے جس نے سر ہی نہ اٹھایا (یعنی توجہ ہی نہ کی) اور میری تعلیمات نہ مانیں، امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اسحاق نے "قیّلت الماء" کا ذکر کیا ہے، قاع: اس خطۂ زمین کو کہتے ہیں جس میں پانی نہ ٹھہرے اور (قرآن میں جو قاعا صفصفا آیا ہے) اس سے مراد ہموار زمین ہے۔
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment