Saturday, June 2, 2018
Hadis no. 185
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنِ امْرَأَتِهِ، فَاطِمَةَ عَنْ جَدَّتِهَا، أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ أَنَّهَا قَالَتْ أَتَيْتُ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حِينَ خَسَفَتِ الشَّمْسُ، فَإِذَا النَّاسُ قِيَامٌ يُصَلُّونَ، وَإِذَا هِيَ قَائِمَةٌ تُصَلِّي فَقُلْتُ مَا لِلنَّاسِ فَأَشَارَتْ بِيَدِهَا نَحْوَ السَّمَاءِ وَقَالَتْ سُبْحَانَ اللَّهِ. فَقُلْتُ آيَةٌ فَأَشَارَتْ أَىْ نَعَمْ. فَقُمْتُ حَتَّى تَجَلاَّنِي الْغَشْىُ، وَجَعَلْتُ أَصُبُّ فَوْقَ رَأْسِي مَاءً، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ " مَا مِنْ شَىْءٍ كُنْتُ لَمْ أَرَهُ إِلاَّ قَدْ رَأَيْتُهُ فِي مَقَامِي هَذَا حَتَّى الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، وَلَقَدْ أُوحِيَ إِلَىَّ أَنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ مِثْلَ أَوْ قَرِيبًا مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ ـ لاَ أَدْرِي أَىَّ ذَلِكَ قَالَتْ أَسْمَاءُ ـ يُؤْتَى أَحَدُكُمْ فَيُقَالُ مَا عِلْمُكَ بِهَذَا الرَّجُلِ فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ ـ أَوِ الْمُوقِنُ لاَ أَدْرِي أَىَّ ذَلِكَ قَالَتْ أَسْمَاءُ ـ فَيَقُولُ هُوَ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، جَاءَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى، فَأَجَبْنَا وَآمَنَّا وَاتَّبَعْنَا، فَيُقَالُ نَمْ صَالِحًا، فَقَدْ عَلِمْنَا إِنْ كُنْتَ لَمُؤْمِنًا، وَأَمَّا الْمُنَافِقُ ـ أَوِ الْمُرْتَابُ لاَ أَدْرِي أَىَّ ذَلِكَ قَالَتْ أَسْمَاءُ ـ فَيَقُولُ لاَ أَدْرِي، سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ شَيْئًا فَقُلْتُهُ
Narrated By Asma' bint Abu Bakr : I came to 'Aisha the wife of the Prophet during the solar eclipse. The people were standing and offering the prayer and she was also praying. I asked her, "What is wrong with the people?" She beckoned with her hand towards the sky and said, "Subhan Allah." I asked her, "Is there a sign?" She pointed out, "Yes." So I, too, stood for the prayer till I fell unconscious and later on I poured water on my head. After the prayer, Allah's Apostle praised and glorified Allah and said, "Just now I have seen something which I never saw before at this place of mine, including Paradise and Hell. I have been inspired (and have understood) that you will be put to trials in your graves and these trials will be like the trials of Ad-Dajjal, or nearly like it (the sub narrator is not sure of what Asma' said). Angels will come to every one of you and ask, 'What do you know about this man?' A believer will reply, 'He is Muhammad, Allah's Apostle , and he came to us with self-evident truth and guidance. So we accepted his teaching, believed and followed him.' Then the angels will say to him to sleep in peace as they have come to know that he was a believer. On the other hand a hypocrite or a doubtful person will reply, 'I do not know but heard the people saying something and so I said the same.'"
حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب سورج گرہن ہوا تو میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی دیکھا لوگ نماز کےلیے کھڑے ہیں اور حضر ت عائشہ رضی اللہ عنہا بھی نماز پڑھ رہی ہیں میں نے پوچھا لوگوں کو کیا ہوا ہے اُنہوں نے آسمان کی طرف اشارہ کیا اور سبحان اللہ کہا، میں نے کہا یہ کوئی نشانی ہے اُنہوں نے اشارے سے کہا: ہاں، پھر میں نے بھی نماز شروع کردی یہاں تک کہ مجھے غشی آنے لگی اور میں اپنے سر پر پانی ڈالنے لگی جب رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو آپ ﷺ نے اللہ کی حمد وثنا کے بعد فرمایا: اس سے پہلے جو کچھ میں نے نہیں دیکھا تھا آج اس جگہ دیکھ لیا ہے، حتی کہ جنت اور جہنم بھی، اور مجھ پر وحی کی گئی ہے کہ تمہیں قبروں میں ایسے آزمایا جائے گا جیسے دجال کے ذریعے آزمایا جائے گا یا اس کے قریب قریب کوئی جملہ بولا، فاطمہ (راویہ) کو شک ہے کہ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے کون سا جملہ بولا ہے، تم میں سے ہر ایک سے قبر میں فرشتے پوچھیں گے کہ تم اس شخص(محمد ﷺ) کے بارے میں کیا اعتقاد رکھتے ہو؟ ایمان دار یا یقین رکھنے والا، فاطمہ (راویہ) کو شک ہے کہ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے کون سا جملہ بولا ہے، کہے گا کہ وہ محمدﷺ ہیں جو اللہ کے رسول ہیں اور اس کی طرف سے واضح نشانیاں اور ہدایت کی باتیں لے کر آئے تھے ہم نے ان کا کہا مانا اور ان کی پیروی کی، پھر اسے کہا جائے گا کہ تم آرام سے سو جاؤ ہمیں معلوم تھا کہ تم ایماندار ہو، اور جو منافق یا شک کرنے والا ہوگا، فاطمہ(راویہ) کو شک ہے کہ حضرت اسماء ر ضی اللہ عنہا نے کون سا جملہ بولا ہے، وہ کہے گا میں نہیں جانتا، میں تو لوگوں کے کہنے پر چلتا تھا۔
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment