Friday, June 1, 2018
Hadis no. 127
حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، قَالَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، سُلَيْمَانُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ بَيْنَا أَنَا أَمْشِي، مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي خَرِبِ الْمَدِينَةِ، وَهُوَ يَتَوَكَّأُ عَلَى عَسِيبٍ مَعَهُ، فَمَرَّ بِنَفَرٍ مِنَ الْيَهُودِ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ سَلُوهُ عَنِ الرُّوحِ. وَقَالَ بَعْضُهُمْ لاَ تَسْأَلُوهُ لاَ يَجِيءُ فِيهِ بِشَىْءٍ تَكْرَهُونَهُ. فَقَالَ بَعْضُهُمْ لَنَسْأَلَنَّهُ. فَقَامَ رَجُلٌ مِنْهُمْ فَقَالَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ، مَا الرُّوحُ فَسَكَتَ. فَقُلْتُ إِنَّهُ يُوحَى إِلَيْهِ. فَقُمْتُ، فَلَمَّا انْجَلَى عَنْهُ، قَالَ {وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتُيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلاَّ قَلِيلاً}. قَالَ الأَعْمَشُ هَكَذَا فِي قِرَاءَتِنَا
Narrated By 'Abdullah : While I was going with the Prophet through the ruins of Medina and he was reclining on a date-palm leaf stalk, some Jews passed by. Some of them said to the others: Ask him (the Prophet) about the spirit. Some of them said that they should not ask him that question as he might give a reply which would displease them. But some of them insisted on asking, and so one of them stood up and asked, "O Aba-l-Qasim ! What is the spirit?" The Prophet remained quiet. I thought he was being inspired Divinely. So I stayed till that state of the Prophet (while being inspired) was over. The Prophet then said, "And they ask you (O Muhammad) concerning the spirit... Say: The spirit... its knowledge is with my Lord. And of knowledge you (mankind) have been given only a little)."
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے میں نبیﷺ کے ساتھ مدینہ کے کھنڈرات سے گزر رہا تھا اور آپ ﷺ کھجور کی ایک ٹہنی کے سہارے چل رہے تھے اتنے میں آپﷺ کا گزر یہودیوں کے ایک گروہ کے پاس سے ہوا، انہوں نے آپس میں باتیں شروع کر دیں ایک کہنے لگا ان(محمدﷺ) سے روح کے بارے میں پوچھو دوسرے نے کہا نہ پوچھنا اگر انہوں نے کوئی جواب دے دیا تو آپ کو برا لگے گا، لیکن کچھ یہودیوں نے کہا ہم تو ضرور پوچھیں گے، آخر ان میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا: اے ابو القاسم! روح کیا چیز ہے؟ یہ سن کر آپﷺ خاموش ہو گئے ،میں سمجھ گیا کہ وحی نازل ہو رہی ہے لہذا میں ٹھہر گیا، جب وحی ختم ہوئی تو آپﷺ نے (سورۃ بنی اسرائیل کی) یہ آیت تلاوت فرمائی: اے پیغمبر یہ لوگ آپ سے روح کے بارے میں پوچھتے ہیں آپ ان سے کہہ دیں کہ روح میرے رب کا حکم ہے، اورتمہیں تھوڑا علم دیا گیا ہے۔ اعمش کہتے ہیں ہماری قراءت میں اوتوا ہے اوتیتم نہیں۔
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment