Friday, June 1, 2018

Hadis no. 65

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدٍ ـ هُوَ الْمَقْبُرِيُّ ـ عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ بَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي الْمَسْجِدِ، دَخَلَ رَجُلٌ عَلَى جَمَلٍ فَأَنَاخَهُ فِي الْمَسْجِدِ، ثُمَّ عَقَلَهُ، ثُمَّ قَالَ لَهُمْ أَيُّكُمْ مُحَمَّدٌ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مُتَّكِئٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ‏.‏ فَقُلْنَا هَذَا الرَّجُلُ الأَبْيَضُ الْمُتَّكِئُ‏.‏ فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ ابْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ قَدْ أَجَبْتُكَ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ الرَّجُلُ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِنِّي سَائِلُكَ فَمُشَدِّدٌ عَلَيْكَ فِي الْمَسْأَلَةِ فَلاَ تَجِدْ عَلَىَّ فِي نَفْسِكَ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ سَلْ عَمَّا بَدَا لَكَ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ أَسْأَلُكَ بِرَبِّكَ وَرَبِّ مَنْ قَبْلَكَ، آللَّهُ أَرْسَلَكَ إِلَى النَّاسِ كُلِّهِمْ فَقَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ نَعَمْ ‏"‏‏.‏ قَالَ أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ، آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ نُصَلِّيَ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ نَعَمْ ‏"‏‏.‏ قَالَ أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ، آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ نَصُومَ هَذَا الشَّهْرَ مِنَ السَّنَةِ قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ نَعَمْ ‏"‏‏.‏ قَالَ أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ، آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ تَأْخُذَ هَذِهِ الصَّدَقَةَ مِنْ أَغْنِيَائِنَا فَتَقْسِمَهَا عَلَى فُقَرَائِنَا فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اللَّهُمَّ نَعَمْ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ الرَّجُلُ آمَنْتُ بِمَا جِئْتَ بِهِ، وَأَنَا رَسُولُ مَنْ وَرَائِي مِنْ قَوْمِي، وَأَنَا ضِمَامُ بْنُ ثَعْلَبَةَ أَخُو بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ‏.‏ رَوَاهُ مُوسَى وَعَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا Narrated By Anas bin Malik : While we were sitting with the Prophet in the mosque, a man came riding on a camel. He made his camel kneel down in the mosque, tied its foreleg and then said: "Who amongst you is Muhammad?" At that time the Prophet was sitting amongst us (his companions) leaning on his arm. We replied, "This white man reclining on his arm." The an then addressed him, "O Son of 'Abdul Muttalib The Prophet said, "I am here to answer your questions." The man said to the Prophet, "I want to ask you something and will be hard in questioning. So do not get angry." The Prophet said, "Ask whatever you want." The man said, "I ask you by your Lord, and the Lord of those who were before you, has Allah sent you as an Apostle to all the mankind?" The Prophet replied, "By Allah, yes." The man further said, "I ask you by Allah. Has Allah ordered you to offer five prayers in a day and night (24 hours).? He replied, "By Allah, Yes." The man further said, "I ask you by Allah! Has Allah ordered you to observe fasts during this month of the year (i.e. Ramadan)?" He replied, "By Allah, Yes." The man further said, "I ask you by Allah. Has Allah ordered you to take Zakat (obligatory charity) from our rich people and distribute it amongst our poor people?" The Prophet replied, "By Allah, yes." Thereupon that man said, "I have believed in all that with which you have been sent, and I have been sent by my people as a messger, and I am Dimam bin Tha'laba from the brothers of Bani Sa'd bin Bakr." حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نبیﷺ کے ساتھ مسجد میں بیٹھے تھے کہ ایک شخص اونٹ پر سوار آیا، اور اونٹ کو مسجد میں باندھ کر پوچھنے لگا (بھائیو)محمدﷺ کون ہیں،نبیﷺ اس وقت لوگوں میں تکیہ لگائے تشریف فرما تھے، ہم نےکہا محمدﷺ یہ سفید رنگ کے بزرگ ہیں، جو تکیہ لگائے بیٹھے ہیں، تب وہ آپﷺ سے کہنے لگا اے عبدالمطلب کے بیٹے! آپﷺ نے فرمایا (کہہ ) میں سن رہا ہوں وہ کہنے لگا میں آپ سے چند سوالات کرنے آیا ہوں اور ذرا سختی سے سوال کروں گا آپ برا نہ مانیے گا، آپﷺ نے فرمایا ( ایسی کوئی بات نہیں) جو جی چاہیے پوچھو، اس نے پوچھا میں آپ کو آپ کے اللہ اور اگلے لوگوں کے اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں، کیا اللہ نے آپ کو(دنیا کے) سب لوگوں کی طرف رسول بنا کربھیجا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: جی ہاں! اُس نے کہا، میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں، کیا اللہ نے آپ کو رات دن میں پانچ نمازیں پڑھنے کا حکم دیا ہے؟ آپ ﷺ نےفرمایا: ہاں یا میرے اللہ۔ پھر کہنے لگا: میں آپ کو قسم دیتا ہوں کیا اللہ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے کہ سال بھر میں اس مہینہ (یعنی رمضان) میں روزے رکھو ؟ آپﷺ نے فرمایا: ہاں یا میرے اللہ، پھر کہنے لگا میں آپ کو قسم دیتا ہوں کیا اللہ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے کہ ہم میں سے جو مالدار لوگ ہیں ان سے زکاۃ لے کر غریبوں میں تقسیم کر دو؟ نبیﷺ نے فرمایا: ہاں یا میرے اللہ، تب وہ شخص کہنے لگا میں اس پیغام پر ایمان لایا جو آپﷺ اللہ تعالیٰ کی طرف سے لائے ہیں، میں اپنی قوم کا ایلچی ہوں ،میرا نام ضمام بن ثعلبہ ہے اور میرا تعلق بنو سعد بن بکر سے ہے ۔ اس حدیث کو (لیث کی طرح) موسی اور علی بن عبدالحمید نے سلیمان سے بواسطہ ثابت بروایت انس رضی اللہ عنہ نبیﷺ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔

Hadis no. 64

حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِنَّ مِنَ الشَّجَرِ شَجَرَةً لاَ يَسْقُطُ وَرَقُهَا، وَإِنَّهَا مَثَلُ الْمُسْلِمِ، حَدِّثُونِي مَا هِيَ ‏"‏‏.‏ قَالَ فَوَقَعَ النَّاسُ فِي شَجَرِ الْبَوَادِي‏.‏ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَوَقَعَ فِي نَفْسِي أَنَّهَا النَّخْلَةُ، ثُمَّ قَالُوا حَدِّثْنَا مَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ هِيَ النَّخْلَةُ ‏" Narrated By Ibn 'Umar : The Prophet said, "Amongst the trees, there is a tree, the leaves of which do not fall and is like a Muslim. Tell me the name of that tree." Everybody started thinking about the trees of the desert areas. And I thought of the date-palm tree. The others then asked, "Please inform us what is that tree, O Allah's Apostle?" He replied, "It is the date-palm tree." عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا درختوں میں ایک درخت ایسا ہےجس کے پتّے نہیں جھڑتے اور مسلمان کی مثال اسی درخت کی سی ہے بتاؤ وہ کون سا درخت ہے؟ لوگوں کا خیال جنگل کے مختلف درختوں کی طرف گیا، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میرے دل میں آیا کہ وہ کھجور کا درخت ہے لیکن (کم سنی) کی وجہ سے جواب دینے سے شرما گیا، پھر لوگوں کے پوچھنے پر آپﷺ نے بتایا کہ وہ کجھور کا درخت ہے۔

Hadis no. 63

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ مِنَ الشَّجَرِ شَجَرَةً لاَ يَسْقُطُ وَرَقُهَا، وَإِنَّهَا مَثَلُ الْمُسْلِمِ، فَحَدِّثُونِي مَا هِيَ ‏"‏‏.‏ فَوَقَعَ النَّاسُ فِي شَجَرِ الْبَوَادِي‏.‏ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَوَقَعَ فِي نَفْسِي أَنَّهَا النَّخْلَةُ، فَاسْتَحْيَيْتُ ثُمَّ قَالُوا حَدِّثْنَا مَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ ‏"‏ هِيَ النَّخْلَةُ " Narrated By Ibn 'Umar : Allah's Apostle said, "Amongst the trees, there is a tree, the leaves of which do not fall and is like a Muslim. Tell me the name of that tree." Everybody started thinking about the trees of the desert areas. And I thought of the date-palm tree but felt shy to answer the others then asked, "What is that tree, O Allah's Apostle ?" He replied, "It is the date-palm tree." عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا درختوں میں ایک درخت ایسا ہےجس کے پتّے نہیں جھڑتے اور مسلمان کی مثال اسی درخت کی سی ہے بتاؤ وہ کون سا درخت ہے؟ لوگوں کا خیال جنگل کے مختلف درختوں کی طرف گیا، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میرے دل میں آیا کہ وہ کھجور کا درخت ہے لیکن (کم سنی) کی وجہ سے جواب دینے سے شرما گیا، پھر لوگوں کے پوچھنے پر آپﷺ نے بتایا: کہ وہ کجھور کا درخت ہے۔

Hadis no. 62

حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ تَخَلَّفَ عَنَّا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي سَفْرَةٍ سَافَرْنَاهَا، فَأَدْرَكَنَا وَقَدْ أَرْهَقَتْنَا الصَّلاَةُ وَنَحْنُ نَتَوَضَّأُ، فَجَعَلْنَا نَمْسَحُ عَلَى أَرْجُلِنَا، فَنَادَى بِأَعْلَى صَوْتِهِ ‏"‏ وَيْلٌ لِلأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ ‏"‏‏.‏ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا Narrated By 'Abdullah bin 'Amr : Once the Prophet remained behind us in a journey. He joined us while we were performing ablution for the prayer which was over-due. We were just passing wet hands over our feet (and not washing them properly) so the Prophet addressed us in a loud voice and said twice or thrice: "Save your heels from the fire." حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک دفعہ دورانِ سفر (جو مکہ سے مدینہ کا تھا)نبیﷺ ہم سے بچھڑ گئے پھر عین نماز کے وقت واپس تشریف لائے اور ہم (جلدی جلدی) وضو کر رہے تھے پاؤں کو اچھی طرح نہیں دھو رہے تھے تو آپﷺ نے بآواز بلند فرمایا : ایڑیوں(کو خشک چھوڑنے والوں )کے لیے ہلاکت ہے، یہ کلمات آپﷺ نے دو یا تین مرتبہ دہرالیے۔

Hadis no. 61

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ، قَالَ حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ، ح وَحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، حَدَّثَنِي هِلاَلُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ بَيْنَمَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي مَجْلِسٍ يُحَدِّثُ الْقَوْمَ جَاءَهُ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ مَتَى السَّاعَةُ فَمَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُحَدِّثُ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ سَمِعَ مَا قَالَ، فَكَرِهَ مَا قَالَ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ بَلْ لَمْ يَسْمَعْ، حَتَّى إِذَا قَضَى حَدِيثَهُ قَالَ ‏"‏ أَيْنَ ـ أُرَاهُ ـ السَّائِلُ عَنِ السَّاعَةِ ‏"‏‏.‏ قَالَ هَا أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِذَا ضُيِّعَتِ الأَمَانَةُ فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ ‏"‏‏.‏ قَالَ كَيْفَ إِضَاعَتُهَا قَالَ ‏"‏ إِذَا وُسِّدَ الأَمْرُ إِلَى غَيْرِ أَهْلِهِ فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ Narrated By Abu Huraira : While the Prophet was saying something in a gathering, a Bedouin came and asked him, "When would the Hour (Doomsday) take place?" Allah's Apostle continued his talk, so some people said that Allah's Apostle had heard the question, but did not like what that Bedouin had asked. Some of them said that Allah's Apostle had not heard it. When the Prophet finished his speech, he said, "Where is the questioner, who enquired about the Hour (Doomsday)?" The Bedouin said, "I am here, O Allah's Apostle ." Then the Prophet said, "When honesty is lost, then wait for the Hour (Doomsday)." The Bedouin said, "How will that be lost?" The Prophet said, "When the power or authority comes in the hands of unfit persons, then wait for the Hour (Doomsday.)" حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے نبیﷺ لوگوں کے درمیان تشریف فرما تھے کہ ایک دیہاتی آیا اور آپ ﷺ سے پوچھنے لگا قیامت کب آئے گی؟ نبی ﷺ اپنی باتوں میں مصروف رہے کوئی جواب نہ دیا، بعض لوگوں نے سمجھا کہ آپ ﷺ نے اس کی بات سنی ہی نہیں اور بعض کا خیال تھا کہ بات تو سنی ہے لیکن آپ ﷺ نے اسکو پسند نہیں فرمایا، جب آپﷺ اپنی بات سے فارغ ہوئے تو پوچھا وہ قیامت سے متعلق سوال کرنے والا کہاں ہے؟ اس دیہاتی نے کہا: میں حاضر ہوں اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: جب امانت (ایمانداری) ضائع کی جائے گی تو قیامت کا انتظار کرنا، اس نے کہا یہ کیوں کر ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جب معاملات نا اہل لوگوں کے سپرد کر دئیے جائیں گے تو قیامت کا انتظار کرنا۔

Friday, May 25, 2018

Hadis no. 60

حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلاَقَةَ، قَالَ سَمِعْتُ جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ يَوْمَ مَاتَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ قَامَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَقَالَ عَلَيْكُمْ بِاتِّقَاءِ اللَّهِ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ، وَالْوَقَارِ وَالسَّكِينَةِ حَتَّى يَأْتِيَكُمْ أَمِيرٌ، فَإِنَّمَا يَأْتِيكُمُ الآنَ، ثُمَّ قَالَ اسْتَعْفُوا لأَمِيرِكُمْ، فَإِنَّهُ كَانَ يُحِبُّ الْعَفْوَ‏.‏ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ، فَإِنِّي أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قُلْتُ أُبَايِعُكَ عَلَى الإِسْلاَمِ‏.‏ فَشَرَطَ عَلَىَّ وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ‏.‏ فَبَايَعْتُهُ عَلَى هَذَا، وَرَبِّ هَذَا الْمَسْجِدِ إِنِّي لَنَاصِحٌ لَكُمْ‏.‏ ثُمَّ اسْتَغْفَرَ وَنَزَلَ Narrated By Ziyad bin'Ilaqa : I heard Jarir bin 'Abdullah (Praising Allah). On the day when Al-Mughira bin Shu'ba died, he (Jarir) got up (on the pulpit) and thanked and praised Allah and said, "Be afraid of Allah alone Who has none along with Him to be worshipped.(You should) be calm and quiet till the (new) chief comes to you and he will come to you soon. Ask Allah's forgiveness for your (late) chief because he himself loved to forgive others." Jarir added, "Amma badu (now then), I went to the Prophet and said, 'I give my pledge of allegiance to you for Islam." The Prophet conditioned (my pledge) for me to be sincere and true to every Muslim so I gave my pledge to him for this. By the Lord of this mosque! I am sincere and true to you (Muslims). Then Jarir asked for Allah's forgiveness and came down (from the pulpit). جس دن مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ (حاکمِ کوفہ) وفات پا گئے تو جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ خطبہ کےلئے کھڑے ہوئے اور حمد وثنا کے بعد فرمایا: تمہیں اللہ وحدہ لا شریک کا خوف رکھنا چاہیے، اور اس وقت تک تحمل وبردباری کے ساتھ رہنا چاہیے جب تک دوسرا حاکم نہ آجائے، اور وہ ابھی آنے والا ہی ہے، پھر فرمایا اپنے فوت ہونے والے حاکم کےلئے دعائے مغفرت کرو، کیونکہ وہ بھی معافی کو پسند کرتے تھے اورتمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ایک دفعہ میں نبی ﷺ کے پاس گیا، اور عرض کی میں آپ سے اسلام پر بیعت کرنا چاہتا ہوں آپﷺ نے مجھ پر ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کی شرط لگائی، تو میں نے اسی شرط پر آپ ﷺ سے بیعت کی ، اس مسجد کے رب کی قسم! میں آپ لوگوں کا خیر خواہ ہوں ، پھر استغفار کیا اور منبر سے اتر گئے۔


Hadis no. 60

Hadis no. 59

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قال بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى إِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ Narrated By Jarir bin Abdullah : I gave the pledge of allegiance to Allah's Apostle for the following:Offer prayers perfectly.Pay the Zakat. (obligatory charity).And be sincere and true to every Muslim. حضرت جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ سے نماز قائم کرنے ، زکاۃ دینے اور ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرنے پر بیعت کی ہے۔